محرم الحرام
عزت و حرمت کا مہینہ
کتاب و سنت سے عدم واقفیت کی بنا پر
بعض احباب کے اذہان میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ محرم الحرام شہادت حسین
رضی اللہ عنہ کی وجہ سے مقدس اور محترم ہے لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ
جس دن سے اللہ عزوجل زمین و آسمان کی تخلیق فرمائی اس دن سے مہینوں کی
تعداد بارہ مقرر فرمائی جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ۔ ( سورۃ التوبۃ آیت نمبر 36 )
ان
چار مہینوں میں سے ایک مہینہ محرم الحرام بھی ہے جس سے سن ہجری کا آغاز
ہوتا ہے اور کتاب و سنت میں اس ماہ کو عزت و حرمت کا مہینہ قرار دیا گیا
ہے چنانچہ اس ماہ کی فضیلت اس بات سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ حضرت ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
: ( ( افضل الصیام بعد شھر رمضان شھر اللہ المحرم ) ) کہ رمضان المبارک کے روزوں کے بعد افضل ترین روزے محرم کے ہیں ۔
اور
دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ
رمضان المبارک کے روزوں کے بعد افضل روزے کون سے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا : کہ رمضان المبارک کے روزوں کے بعد افضل ترین روزے
محرم کے ہیں ۔ ( صحیح مسلم ، کتاب الصیام ، باب فضل صوم المحرم ص 367 جلد1 )
حضرت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہود عاشورا کا روزہ رکھے ہوئے تھے
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کون سا دن ہے ؟ جس کا تم روزہ
رکھے ہوئے ہو تو انہوں نے جواب دیا ھذا یوم عظیم انجی اللہ موسی وقومہ وغرق فرعون وقومہ فصامہ موسی شکرا فنحن نصومہ
یہ بہت بڑی عظمت کا دن ہے اللہ عزوجل نے اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام
اور آپ کی قوم کو ( فرعونیوں سے ) نجات دی ۔ فرعون اور اس کی قوم کو غرق
کر دیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکر کا روزہ رکھا ہم ان کی اقتدا
کرتے ہوئے روزہ رکھتے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
: فنحن احق واولی بموسی منکم فصام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وامر بصیامہ ہم تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا ارشاد فرمایا
( صحیح مسلم ، کتاب الصیام ، باب صوم یوم عاشورا ص359 جلد1 )
__________________________
MAKE YOUR SELF AS A BOOK IT'S EASY TO READ BUT DIFFICULT TO WRITE
THIS THING CAN'T GAVE PAIN TO SOME ONE OR SOME-BODY