GupShup, Pakistan Discussion Forum, Urdu Poetry, Send Free SMS to Pakistan, Free Urdu Courses, IT News, Pakistan Politics
 
HomeSend Free SMSCalendarFAQSearchRegisterMemberlistLog inContact Us


Your Ad Here

Your Ad Here
Share | 
 

 Muharram Izat o Hurmat ka mahina

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
Angel
Senior Moderator
Senior Moderator


Warning:
Female
Aquarius
Number of posts: 4148
Age: 27
Location: SAPNO KI DUNIYA MAIN
Reputation: 25
Points: 632
Registration date: 2007-09-25

PostSubject: Muharram Izat o Hurmat ka mahina   Sun 18 Oct 2009, 5:26 pm

محرم الحرام




عزت و حرمت کا مہینہ







کتاب و سنت سے عدم واقفیت کی بنا پر
بعض احباب کے اذہان میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ محرم الحرام شہادت حسین
رضی اللہ عنہ کی وجہ سے مقدس اور محترم ہے لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ
جس دن سے اللہ عزوجل زمین و آسمان کی تخلیق فرمائی اس دن سے مہینوں کی
تعداد بارہ مقرر فرمائی جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ۔ ( سورۃ التوبۃ آیت نمبر 36 )
ان
چار مہینوں میں سے ایک مہینہ محرم الحرام بھی ہے جس سے سن ہجری کا آغاز
ہوتا ہے اور کتاب و سنت میں اس ماہ کو عزت و حرمت کا مہینہ قرار دیا گیا
ہے چنانچہ اس ماہ کی فضیلت اس بات سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ حضرت ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
: ( ( افضل الصیام بعد شھر رمضان شھر اللہ المحرم ) ) ” کہ رمضان المبارک کے روزوں کے بعد افضل ترین روزے محرم کے ہیں ۔ “
اور
دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ
رمضان المبارک کے روزوں کے بعد افضل روزے کون سے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا : ” کہ رمضان المبارک کے روزوں کے بعد افضل ترین روزے
محرم کے ہیں ۔ “ ( صحیح مسلم ، کتاب الصیام ، باب فضل صوم المحرم ص 367 جلد1 )
حضرت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہود عاشورا کا روزہ رکھے ہوئے تھے
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کون سا دن ہے ؟ جس کا تم روزہ
رکھے ہوئے ہو “ تو انہوں نے جواب دیا ھذا یوم عظیم انجی اللہ موسی وقومہ وغرق فرعون وقومہ فصامہ موسی شکرا فنحن نصومہ
” یہ بہت بڑی عظمت کا دن ہے اللہ عزوجل نے اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام
اور آپ کی قوم کو ( فرعونیوں سے ) نجات دی ۔ فرعون اور اس کی قوم کو غرق
کر دیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکر کا روزہ رکھا ہم ان کی اقتدا
کرتے ہوئے روزہ رکھتے ہیں ۔ “ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
: فنحن احق واولی بموسی منکم فصام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وامر بصیامہ “ ہم تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا ارشاد فرمایا “
( صحیح مسلم ، کتاب الصیام ، باب صوم یوم عاشورا ص359 جلد1 )

__________________________
MAKE YOUR SELF AS A BOOK IT'S EASY TO READ BUT DIFFICULT TO WRITE
THIS THING CAN'T GAVE PAIN TO SOME ONE OR SOME-BODY


Last edited by Angel on Sun 18 Oct 2009, 5:30 pm; edited 1 time in total
Back to top Go down
View user profile http://www.www.pagespk.com
Angel
Senior Moderator
Senior Moderator


Warning:
Female
Aquarius
Number of posts: 4148
Age: 27
Location: SAPNO KI DUNIYA MAIN
Reputation: 25
Points: 632
Registration date: 2007-09-25

PostSubject: Re: Muharram Izat o Hurmat ka mahina   Sun 18 Oct 2009, 5:27 pm

( سنن ابن ماجہ ، کتاب الصیام ، باب صیام یوم عاشوراءص124 )
اس
کے ساتھ نویں محرم یا گیارہویں محرم کا بھی روزہ رکھنا چاہیے ۔ جیسا کہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے عاشورا کے دن کا روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کا
حکم دیا تو لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہود و
نصاریٰ اس دن کی بڑی تعظیم کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا : ” فاذا کان العام المقبل ان شاءاللہ صمنا الیوم التاسع فلم یات العام المقبل حتی توفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “ ان شاءاللہ ہم آئندہ سال نو محرم کا بھی روزہ رکھیں گے آئندہ سال آنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ۔

( صحیح مسلم ، کتاب الصیام ، باب صوم عاشورا ص 359 جلد 1 )
پھر عاشورا کے روزہ کے اجر و ثواب سے بھی محرم کی عزت و فضیلت عیاں ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صیام یوم عاشوراءاحتسب علی اللہ ان یکفر السنة التی قبلہ “ یوم عاشورا کا روزہ ، میں اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ اس روزہ دار کے گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو گا ۔ “ ( صحیح مسلم ص 367 جلد1 )
حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عاشورا کے روزہ سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یکفر السنة الماضیة ( ایضا ص 368 جلد اول ) ابن ماجہ ص 324 )
لیکن صد حیف.... کہ اتنی فضیلت ، عزت ، اور حرمت والے مہینے ( محرم الحرام
) کو مجالس عزا ، نوحہ و ماتم ، سیاہ کپڑوں ، اور زنجیر زنی کی نظر کر دیا
گیا ۔ ( انا للہ وانا الیہ راجعون )
قارئین محترم!
ہمارے علم و عقیدہ کے مطابق حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے
سردار سبط رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، جگر گوشہ بتول رضی اللہ عنہا اور
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں امتیازی حیثیت کے مالک تھے ۔
عبادت ، سخاوت ، اور شجاعت جیسے اوصاف سے متصف تھے ۔ ان کی شہادت کا المیہ
ایک عظیم سانحہ ہے ان کے اعزہ و اقارب اور معصوم بچوں کے ناحق خون سے اپنے
ہاتھ رنگین کرنے والے بلاشبہ ظالم ہیں ۔ ملت اسلامیہ میں اس واقعہ فاجعہ
پر جتنا بھی غم و اندوہ کا اظہار کیا جائے بہت کم ہے لیکن جس انداز سے
مروجہ غم و اندوہ کا اظہار کیا جا رہا ہے اس سے بناوٹ اور تصنع کا پہلو
اجاگر ہوتا ہے جو صاحب شریعت ، ان کے جانثاروں کے علاوہ ائمہ اہل بیت کے
نزدیک بھی مستحسن نہیں ۔ اس ضمن میں علی الترتیب اختصارا چند سطور پیش
خدمت ہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غم و اندوہ کی
حدود کو اس طرح متعین فرمایا کہ ما کان من القلب والعین فمن اللہ وما کان
من الید واللسان فمن الشیطان یعنی غم و اندوہ کا اظہار دل کی پریشانی اور
آنکھ کے آنسوؤں سے جائز ہے لیکن ہاتھ کی حرکت اور زبان کی آہ فغانی کار
شیطان میں شامل ہے ۔
دوسرے مقام پر اس کی وضاحت یوں بیان فرمائی کہ لیس منا من ضرب الخدود وشق الجیوب ودعاءبدعوة الجاھلیة ” جو شخص مصیبت میں رخسار پیٹے ، کپڑے پھاڑے ، اور دور جاہلیت کے بول بولے ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ “ ( صحیح بخاری کتاب الجنائز ص 172, 173 ) صحیح مسلم کتاب الایمان ص70 ) بلکہ
ان فرامین ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسوہ حسنہ کو بھی
کائنات کے سامنے رکھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر حضرت ابراہیم
رضی اللہ عنہ کا انتقال پرملال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غم و
اندوہ کا اظہار ان الفاظ میں کیا : ان العین تدمع والقلب یحزن ولا نقول الا ما یرضی ربنا وانا بفراقک یا ابراھیم لمحزون ”
آنکھیں آنسوؤں سے تر ہیں اور دل حزن و ملال سے بھرپور ہے ، لیکن زبان پر
وہی کلمہ آئے گا جو رضائے الٰہی کا موجب ہو ۔ اے ابراہیم تیری جدائی
انتہائی غمناک ہے ۔ “ ( صحیح بخاری کتاب الجنائز ص 174 صحیح مسلم کتاب الفضائل باب رحمتہ صلی اللہ علیہ وسلم علی الصبیان ص 254 ) نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بایں الفاظ وصیت کی تھی :
” اے فاطمہ جب میری وفات ہو جائے تو میری موت پر اپنا چہرہ نہ پیٹنا ، بال
نہ کھولنا ، نہ بالوں کو نوچنا ، نوحہ و ماتم نہ خود کرنا اور نہ ہی نوحہ
گروں کو بلانا ، آہ و فغان قطعاً نہ کرنا ، صبر کرنا اور گریہ زاری مت
کرنا ۔ “ از حیات القلوب وجلاءالعیول ۔
چنانچہ
اس باب سے متعلق کتب احادیث کے ذخیرہ میں امام اعظم حضرت محمد رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین مقدسہ اس قدر ہیں کہ یہاں ان کی تحریر کی
گنجائش نہیں ۔
شیعہ کتب میں بھی اس باب سے متعلق واضح ثبوت
ہیں چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
وفات پر فرمایا تھا : ” میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں
، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے وہ برکات ختم ہو گئیں جو کسی غیر کی
وفات سے ختم نہ ہو سکتی تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نبوت بھی ختم ہو
گئی اور آسمانی خبریں بھی ختم ہو گئیں ۔ لولا انک امرت بالصبر ونھیت عن الجزع لا نفذنا علیک ماءالسوذن
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کی تلقین نہ کی ہوتی اور جزع فزع سے منع
نہ کیا ہوتا تو ہم اپنی آنکھوں کا پانی رو رو کر ختم کر دیتے ۔ “ ( نہج البلاغہ مطبوعہ تبریز ص 205 ، مطبوعہ مصر 256 )

__________________________
MAKE YOUR SELF AS A BOOK IT'S EASY TO READ BUT DIFFICULT TO WRITE
THIS THING CAN'T GAVE PAIN TO SOME ONE OR SOME-BODY
Back to top Go down
View user profile http://www.www.pagespk.com
Angel
Senior Moderator
Senior Moderator


Warning:
Female
Aquarius
Number of posts: 4148
Age: 27
Location: SAPNO KI DUNIYA MAIN
Reputation: 25
Points: 632
Registration date: 2007-09-25

PostSubject: Re: Muharram Izat o Hurmat ka mahina   Sun 18 Oct 2009, 5:28 pm

دوسرے مقام پر فرماتے ہیں وعلیکم بالصبر فان الصبر من الایمان کالراس من الجسد ولا خیر فی جسد لا راس معہ ، ولا فی ایمان لاصبر معہ ”
صبر اختیار کرو ، کیونکہ صبر کا تعلق ایمان کے ساتھ ایسا ہی ہے جیسا کہ سر
کا تعلق جسم کے ساتھ ہے جس طرح مر جانے کے بعد بدن بیکار ہو جاتا ہے ، اسی
طرح بے صبری سے ایمان ختم ہو جاتا ہے ۔ “ ( فروع کافی کتاب الایمان والکفر باب الصبر ونہج البلاغہ ص 168 جلد3 ) اور اصول کافی میں ہے لا ایمان لمن لا صبر لہ ” جس کا صبر نہیں اس کا ایمان نہیں “ ( ص 410 ) حضرت
حسین رضی اللہ عنہ کی آخری وصیت کے الفاظ یہ ہیں : ” میں آپ سب کو وصیت
کرتا ہوں کہ جب میں شہید ہو جاؤں تو میرے غم میں گریبان نہ پھاڑنا ، منہ
پر طمانچے نہ مارنا ، اور نہ ہی سینہ کوبی کرنا ۔ “ ( ذبح عظیم ص 238 ، اعلام الوریٰ باعلام الھدیٰ مطبوعہ ایران ص 236 )
امام جعفر صادق رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت ولا یعصینک فی معروف ( الممتحنہ 12 )
کی تفسیر میں ارقام فرماتے ہیں : ” کہ معروف یہ ہے وہ عورتیں اپنے کپڑوں
کو میت پر نہ پھاڑیں ، نہ اپنے چہرے کو پیٹیں ، نہ واویلا کریں ، نہ میت
کے پیچھے قبر تک جائیں نہ کپڑے کالے کریں اور نہ اپنے بالوں کو بکھیریں ۔ ( فروع کافی ص 228 جلد2 ) اور
زیر آیت مذکورہ تفسیر قمی میں ہے ۔ ” کسی کی موت پر رخسار نہ پیٹو ، نہ
چہرہ نوچو ، نہ بال اکھاڑو ، نہ کپڑے پھاڑو ، نہ کپڑے سیاہ کرو ، اور نہ
ہی بین اور ہائے وائے کرو ۔ “
فروع کافی میں ہے کہ امام جعفر
صادق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا : ” جو شخص اپنی بیوی کا کہا مانے گا اللہ کریم اسے الٹا کر کے
جہنم میں ڈالے گا ۔ “ حاضرین نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس
معاملے میں بیوی کا کہا ماننے پر یہ سزا دی جائے گی فرمایا : ان تطلب الذھاب الی العرسات والنیاحة والثیاب الرقاق ” جو شخص اپنی بیوی کو عرسوں ، اور ماتمی مجالس میں جانے اور باریک کپڑے پہننے کی اجازت دیتا ہے یہ سزا اس شخص کیلئے ہے ۔ “ ( فروع کافی مطبوعہ نولکشور ص 223 جلد دوم )
امام
باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے نوحہ کی مجلس قائم کی ، بال بکھیرے ،
چہرے اور سینے کو پیٹا ، وہ صبر کو چھوڑ کر غیر اسلامی راہ پر چل پڑا ،
ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل مذمت ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے
اعمال ضائع کر دیتا ہے ۔ ( فروع کافی مطبوعہ نولکشور ص121 جلد دوم )
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن النیاحة والاستماع الیھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے اور نوحہ سننے سے منع فرمایا ۔ ( من لایحضرہ الفقیہہ )
حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم النائحة والمستمعة ” کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور نوحہ سننے والی پر لعنت فرمائی ۔ “ ( ابوداود ص 446 ج2 )
قبر کی شبیہ سے متعلق شیخ صدوق فرماتے ہیں کہ قال الصادق کل ما جعل علی القبر من غیر تراب القبر فھو ثقل علی المیت ” قبر پر ، قبر کی اصل مٹی کے علاوہ بنائی گئی ہر چیز صاحب قبر پر بوجھ ہوتی ہے ۔ “ ( من لا یحضرہ الفقیہ ص49 )
مذکورہ کتاب کے ص 50 پر یہ روایت بھی موجود ہے من جدد قبرا او مثل مثالا فقد خرج من الاسلام ”
جس نے قبر کو نیا بنایا ” یا “ اس کا نمونہ بنایا بلاشبہ وہ اسلام سے خارج
ہو گیا ۔ “ اور سیاہ لباس کے متعلق امام جعفر صادق رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
” کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو تعلیم دی کہ سیاہ لباس نہ
پہنو کیونکہ یہ فرعونیوں کا لباس ہے ۔ “ ( من لا یحضرہ الفقیہ ص81 )
اللہ
کریم عزوجل کے حضور دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب و سنت اور ائمہ اہل بیت کے
فرامین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔

__________________________
MAKE YOUR SELF AS A BOOK IT'S EASY TO READ BUT DIFFICULT TO WRITE
THIS THING CAN'T GAVE PAIN TO SOME ONE OR SOME-BODY
Back to top Go down
View user profile http://www.www.pagespk.com
Roshani
Senior Moderator
Senior Moderator


Warning:
Female
Gemini
Number of posts: 4756
Age: 28
Location: ****stars ki duniyah main
Reputation: 49
Points: 1531
Registration date: 2007-09-24

PostSubject: Re: Muharram Izat o Hurmat ka mahina   Sun 18 Oct 2009, 8:40 pm

JAZAK ALLAH ul Khair

__________________________
Kuda ko bhool gae log fikar-e-Rozi main,
Talash Rizk ki hai raazik ka khayal nahi.....
ASILENT MSG 4 ALL


PAGES PK SENIOR MODERATOR
Back to top Go down
View user profile http://www.www.pagespk.com
 

Muharram Izat o Hurmat ka mahina

View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
pagesPK.com :: 
Islamic World
 :: Islamic Months :: Mah e Muharram
-


Your Ad Here

Free forum | © phpBB | Free forum support | Report an abuse | Free forums